Latest Posts

قطر بحران کا ایک سال: ’یہ وہ مسئلہ ہے جسے 20 سال تک بوتل میں بند رکھا گیا لیکن گذشتہ سال وہ باہر آ ہی گیا۔‘

دور صحرا میں ایئر کنڈیشنڈ باڑے کے اندر موجود تمام سہولیات سے لیس خودکار پلیٹ فارم پر گائے کھڑے ہوتی ہے تاکہ اس کے تھنوں کے ساتھ دودھ دوہنے والی مشین کو لگایا جا سکے۔

ایک سال قبل قطر کے پاس ڈیری نظام موجود نہیں تھا اور اسے سعودی عرب سے درآمد کیے جانے والے دودھ پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ بالادنا فارم میں دس ہزار مویشی موجود ہیں۔ ان میں زیادہ تر امریکہ کی اعلیٰ نسل کے جانور ہیں۔

خلیج میں شروع ہونے والے بحران اور قطر کے پڑوسی عرب ممالک کی جانب سے پابندیوں کے آغاز کے ایک ماہ بعد لائی جانے والے گائیں قطر ایئر ویز کے ذریعے لائی گئیں۔

خود انحصاری کی جانب یہ قدم قطر کے لیے قومی فخر کا نشان بن گیا۔

اس فارم کا انتظام چلانے والے پیٹر والٹروریڈن نے کا کہنا ہے کہ ’ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا لیکن ہم نے کر دکھایا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارا وعدہ تھا کہ اس بحران کے ایک سال بعد ہم تازہ دودھ میں خود کفیل ہو جائیں گے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ سال پانچ جون کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر سے تمام سفارتی، تجارتی اور سفری تعلقات ختم کر دیے تھے۔

قطر پر دہشت گردی کی حمایت کرنے، خطے کو غیر مستحکم کرنے اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

قطر ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس نے مطالبات کی ایک طویل فہرست جس میں ال جزیرہ نیوز نیٹ ورک کو بند کرنا بھی شامل ہے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔

اس کے بعد قطر نے اپنی سمندری حدود میں موجود گیس کے ذخائر کو اپنی ’تنہائی‘ دور کرنے کے لیے استعمال کیا اور اس بائیکاٹ کو اپنی سالمیت کے خلاف چیلنج کے طور پر لیا۔

قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے بتایا کہ ’ان پابندیوں کا بنیادی مقصد خطے میں طاقت کو مضبوط کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جو بھی ان سے مختلف ہوتا تو وہ اس پر دہشت گردی کی تصویر بنانا شروع کر دیتے۔‘

پرانی دشمنی
قطر الزام لگاتا ہے کہ یہ بحران اس کی سرکاری نیوز ایجنسی پر سائبر حملے کے بعد گذشتہ سال شروع ہوا جب حکمران امیر منصوب کا ایک بیان شائع کیا گیا۔

ان کے حوالے سے حزب اللہ کے لیے ہمدردری کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ بھی شائع کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ زیادہ عرصے تک صدر نہیں رہیں گے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بے یقینی کی جڑیں کافی پرانی ہیں۔

عربیہ فاؤنڈیشن کے سعودی بانی علی شیہابی کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ مسئلہ ہے جسے 20 سال تک بوتل میں بند رکھا گیا لیکن گذشتہ سال وہ باہر آ ہی گیا۔‘

ان کا اشارہ ان ٹیپس کی جانب تھا جو 2011 میں لیبیا کے سربراہ کرنل معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سامنے آئی تھیں، جن سے بظاہر معلوم ہوا تھا کہ قطری امیر کے والد اپنے دور اقتدار میں سعودی شاہی افراد کے خلاف منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔

علی شیہابی کا کہنا ہے کہ ’قطر اپنے تین لاکھ مقامی شہریوں کے ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے 22 ملین شہریوں کے مقابلے میں آ گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چھوٹے بھائی کو اپنے سے بڑوں کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہیے، کیونکہ آخر میں اس کا ردعمل آتا ہے اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘

اس وقت تو قطر زمینی بندش سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔

قطر نے طے شدہ منصوبے سے قبل ہی خلیجی ساحل پر سات ارب ڈالر کی لاگت سے نئی بندرگاہ کھول دی، جس کا مقصد اپنی معیشت کو پڑوسیوں کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں سے محفوظ رکھنا تھا۔

اس بندرگاہ کا استعمال اب 2022 فٹبال ورلڈ کپ کے سٹیڈیم کی تعمیر کے لیے عمارتی مواد درآمد کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، تاکہ تعمیراتی کام جاری رہے۔

تاہم قطر اس طرح سے ایران کے قریب کر دیا گیا ہے، ایران کے ساتھ اس کی ساحلی سرحدیں ملتی ہیں اور وہیں اس کے سب سے بڑے گیس کے ذخائر بھی ہیں۔ قطری طیاروں کا انحصار اب ایرانی فضائی حدود پر ہے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا کہنا ہے کہ ’ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے۔ ہمیں ہر حال میں اس کے ساتھ تعاون اور بات چیت رکھنی ہے، ہم خطے میں ان سے پالیسیوں پر اختلاف رکھتے ہیں لیکن انھیں مقابلہ کرنا یا آمنے سامنے آنے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔‘

دوسری طرف امریکہ جس نے آغاز میں اس تنازع پر سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کی حمایت کی تھی لیکن حال ہی میں اس نے بھی عرب خلیجی ممالک کے درمیان اتحاد پر زور دیا ہے کیونکہ وہ ایران پر نئی پابندیاں لگانے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

واضح رہے کہ قطر میں ایک بڑا امریکی فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔

قومی گرم جوشی
دوحہ کے تاریخی بازار سوق واقف میں قطریوں کو امید ہے کہ یہ بندش جلد ختم ہو گی جس کی وجہ سے وہ دیگر ممالک میں موجود اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے جدا ہو گئے ہیں۔

ایک شخص جنھوں نے سعودی خاتون سے شادی کر رکھی ہے اور ان کی اہلیہ اب ریاض میں موجود اپنی والدہ سے ملاقات کے لیے نہیں جا سکتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’خلیجی ریاستیں شادیوں کی وجہ سے آپس میں جڑی ہوئی ہیں، اپنے خاندان سے جدا ہونا کافی دردناک ہے۔‘

تاہم یہاں سرکشی تو ہوئی ہے لیکن حب الوطنی میں بڑھی ہے۔

بازار میں بچے ہاتھوں میں غباروں کے ہمراہ نوجوان امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں۔ شیخ تمیم بن حماد الثانی گاڑیوں، مگوں اور ٹی شرٹس پر لگے سٹیکرز میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔

84 سالہ سعد الجاسم کو وہ وقت یاد ہےہ جب ان کا ملک امیر نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ قطر کو ثابت قدم رہنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم پہلے سے بہت بہت بہتر ہیں۔ جو ہم اوروں سے خریدتے تھے اب خود ہی یہاں بنا رہے ہیں۔ یہ میرا ملک ہے میں اس سے محبت کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ یہ اوروں سے سو گنا بہتر ہے۔‘

No comments:

Post a Comment

Thank you for visiting

HD Photos Designed by Templateism.com Copyright © 2014

Theme images by Bim. Powered by Blogger.