Latest Posts

اب کیا ہوگا؟ ایران پر پابندیوں کے اثرات: چارٹس میں - ایران سے تیل کون خریدتا ہے؟عالمی کمپنیوں پر کیا اثر پڑے گا؟

امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے کے دستبرداری کے بعد اس کے مستقبل کے بارے میں سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

2015 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کے بدلے میں اس پر عائد امریکی، یورپی اور اقوامِ متحدہ کی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔

اب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں لگا رہے ہیں۔

ان پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کا ایران پر اور اس سے کاروبار کرنے والی عالمی کمپنیوں پر کیا اثر پڑے گا؟

اب کیا ہوگا؟
امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں دو مراحل میں لگائی جائیں گی۔ تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں چھ ماہ بعد نافذ کی جائیں گی جبکہ دیگر پابندیوں کا نافذ 90 دن کے بعد ہو گا۔

پہلی ڈیڈ لائن چھ اگست ہے اور اس دن سے عائد ہونے والی پابندیوں سے ڈالر کی خریداری، سونے اور دیگر دھاتوں کی تجارت کے علاوہ فضائی اور کاروں کی صنعت متاثر ہو گی۔

پابندیوں کی اگلی لہر 4 نومبر کو آئے گی جس کا ہدف ایران کا فنانشل سیکٹر اور تیل سے متعلق ادارے ہوں گے۔

چھ ماہ کے اختتام پر ان افراد کے خلاف بھی پابندیاں بحال ہو جائیں گی جو ماضی میں امریکی محکمۂ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست کا حصہ تھے۔
ایران سے تیل کون خریدتا ہے؟
ایران دنیا کے تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ وہ سالانہ اربو ڈالر مالیت کا تیل اور گیس برآمد کرتا ہے۔

تاہم بین الاقوامی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ملک میں تیل کی پیداوار اور اس کی مجموعی قومی پیداوار میں کمی آئی۔
اگرچہ امریکہ ایران کا بڑا گاہک نہیں ہے، غیرملکی کمپنیاں اور دیگر ممالک جو پابندیوں کے نفاذ کے بعد بھی ایران سے کاروبار کرتے رہیں گے، امریکی پابندیوں کا سامنا کریں گے۔

اس کا اثر یورپی تیل کمپنیوں پر پڑ سکتا ہے۔

فرانسیسی کمپنی ٹوٹل نے پابندیاں اٹھنے کے بعد ایران کے ساتھ پانچ ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا جبکہ برٹش پیٹرولیم نے ایران کی سرکاری تیل کمپنی کے ساتھی ایک گیس فیلڈ چلانے کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔

دیگر سیکٹرز میں کیا صورتحال ہے؟

ان پابندیوں سے دیگر شعبے بھی متاثر ہوں گے۔
وہ کمپنیاں جو ایران کو کمرشل طیارے فروخت کر رہی ہیں وہ ان پابندیوں سے شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔

ایئر بس اور بوئنگ نے ایران کو 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد مجموعی طور پر 180 طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ کیا تھا اور پابندیوں کی وجہ سے انھیں اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ وہ طیاروں کی تیاری میں امریکی ساختہ پرزے استعمال کرتی ہیں۔

کاریں بنانے والی فرانسیسی کمپنیوں رینو اور پرجو نے بھی ایران میں کاروبار کے معاہدے کیے ہیں جو ان پابندیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایران میں پابندیوں کے خاتمے کا مثبت اثر سیاحت کے شعبے پر بھی پڑا تھا اور 2012 میں سیاحوں کی جو تعداد 38 لاکھ تھی وہ 2015 میں بڑھ کر 50 لاکھ سے زیادہ ہو گئی تھی۔ پابندیوں کے نفاذ کے بعد اس میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
آپشنز کیا ہیں؟
ایران کے تجارتی شراکت داروں کے پاس اب بھی کچھ امید باقی ہے کیونکہ امریکہ کے علاوہ اس جوہری معاہدے میں شامل دیگر ممالک نے اسے برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ انھوں نے امریکہ سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے۔

امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ایران سے کاروبار کرنے والوں کو چھوٹ دینا ممکن ہے تاہم اس نے تاحال اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں کہ کون سی کمپنیوں کو چھوٹ دی جا سکتی ہے۔

اگر یہ نہ ہوا تو یورپی یونین ایران سے کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو امریکی پابندیوں سے تحفظ دینے کے لیے خود حرکت میں آ سکتی ہے جیسا کہ اس نے کیوبا کے معاملے میں کیا تھا۔

No comments:

Post a Comment

Thank you for visiting

HD Photos Designed by Templateism.com Copyright © 2014

Theme images by Bim. Powered by Blogger.