Latest Posts

انڈین میڈیا کی وہ خبر جو میڈیا میں نہیں آئی - کوبراپوسٹ نے ظاہر کیا کہ انڈین میڈیا ڈوب رہا ہے۔

یہ ممکنہ طور پر ایک بڑا سکینڈل ہو سکتا تھا جس سے انڈین جمہوریت کے ایک اہم ستون یعنی صحافت کی آزادی کو نشانہ بنایا ہے لیکن اس کے باوجود انڈین میڈیا میں اس بارے میں بہت کم بات کی گئی ہے۔

اس کی سیدھی سادھی وجہ یہ ہے کہ اس مبینہ سکینڈل میں ملک کے بیشتر طاقتور میڈیا کے ادارے شامل ہیں۔

کوبرا پوسٹ نامی نیوز ادارے نے ایک سٹنگ آپریشن کیا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے بیشتر بڑے میڈیا کے اداروں میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرفداری کے رجحانات پائے جاتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کے انتہائی سینیئر میڈیا ایگزیکٹیو اور صحافی پیسے لے کر سیاسی ایجنڈے کی پروان چڑھانے کے حق میں ہیں۔

کوبراہ پوسٹ ایک متنازع ادارہ ہے جو خفیہ آپریشن کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک غیرمنافع بخش صحافتی ادارہ کہتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ انڈیا میں بہت زیادہ صحافت نے اسے 'بے قدر' کر دیا ہے۔ انھوں نے اپنی اس سٹوری کو 'آپریشن 136' کا نام دیا ہے جو سنہ 2017 میں ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں انڈیا کا نمبر ہے۔

اپنی ویب سائٹ پر وہ لکھتے ہیں کہ ملک کے اہم ترین صحافتی ادارے ناصرف شہریوں میں فرقہ وارانہ انتشار پھیلانے بلکہ پیسوں کے لیے کسی خاص سیاسی جماعت کے حق میں انتخابی تنائج کو موڑنے کے لیے بھی رضا مندی ظاہر کرتے ہیں۔

اس قسم کے خفیہ آپریشن خاصے ناقابل اعتبار ہوتے ہیں۔ ویڈیوز کو غلط انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے یا اس میں کسی گفتگو کے سیاق و سباق کو ایڈٹ کیا جا سکتا ہے یا اصل صورتحال کے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

کوبرا پوسٹ کے انڈر کور رپورٹر پشپ شرما کا کہنا ہے کہ انھوں نے 25 سے زیادہ صحافتی اداروں سے رابطہ کیا اور سب کو ایک جیسی پیشکش کی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک امیر آشرم کے نمائندے ہیں، جو آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے بڑی رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پشپ شرما کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو حکمت عملی پیش کی اس کی تین مرحلے تھے۔

پہلے مرحلے میں میڈیا کے اداروں کو 'ہندوتوا' کے نرم پہلو کو اجاگر کرنے کی پیشکش کی گئی۔ جس میں انھوں نے کیا کہ بھگوان کرشنا کے اقوال اور بھگوت گیتا میں سے کہانیاں پیش کی جائیں۔

اس سے اگلا مرحلہ بی جے پی کے سیاسی مخالفین خاص طور پر کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی کو نشانہ بنانے کی پیشکش کی گئی۔

اور آخری مرحلے میں سخت گیر ہندو رہنماؤں کی اشتعال انگیز تقاریروں کو پروان چڑھانا شامل تھا۔

اس مرحلے کے بارے میں پشپ شرما نے کچھ ایگزیکٹیوز کو بتایا کہ اس سے ووٹرز کا رجحان بی جے پی جانب مڑ سکتا ہے جس کا اسے انتخابات میں فائدہ ہونے کی امید ہے۔

کوبرا پوسٹ کا کہنا ہے انھوں نے بینٹ کولمین جیسے بڑے ادارے سے رابطہ کیا جو اخبار ٹائمز آف انڈیا کا مالک ہے، جو ناصرف انڈیا بلکہ دنیا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والے انگریزی اخبار ہے۔

اس نے ایک اور بڑے انگریزی اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کو بھی نشانہ بنایا، انڈیا ٹوڈے گروپ سے بھی رابطہ کیا جو ملک کے مشہور ترین ٹی وی نیوز چینلز کے مالک ہیں۔

ہندی زبان میں شائع ہونے والے اخبارات اور علاقائی میڈیا گروپس کو بھی پیشکش کی گئیں۔

کوبرا پوسٹ کے مطابق جن دو درجن سے زائد اداروں کے ساتھ انھوں نے ملاقاتیں کی ان میں سے دو کے علاوہ سب کا کہنا تھا کہ وہ اس منصونے پر عمل درآمد کی خواہش رکھتے ہیں۔

ان ملاقاتوں کی ویڈیوز کوبرا پوسٹ کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی جس میں میڈیا ایگزیکٹیوز، ایڈیٹرز اور صحافی اس بارے میں گفتگو کر رہے ہیں کہ وہ ان پیشکشوں کو کس طرح جگہ دے سکتے ہیں۔

مختلف اداروں میں مختلف قسم کی تجاویز پیش کی گئی جن میں غیراعلانیہ 'اشتہارات' کی اشتہارات سے خبریں اور خصوصی فیچرز شامل تھے۔

کچھ نے کہا کہ وہ آشرم کے ایجنڈے کے لیے 'سپیشل ٹیمیں' بھی تیار کریں گے۔ وائرل ویڈیوز، جنگلز، کوئزز اور تقریبات کے انعقات کی بھی بات کی گئی۔

کوبراپوسٹ نے ملک کے انتہائی طاقتور میڈیا کے اداروں پر بہت بڑے الزامات عائد کیے ہیں۔

بیشتر جمہوری ممالک میں اس قسم کے دعوؤں کے بعد ایک بڑا قومی سکینڈل سامنے آجاتا جو سرخیوں میں ہوتا اور عوامی غم و غصے کا اظہار ہوتا۔

لیکن انڈیا میں صرف چند ایک آن لائن اداروں جیسا کہ دی وائر، سکرول اور دی پرنٹ نے اس کو خصوصی توجہ دی ہے۔


اس خفیہ آپریشن میں نشانہ بنائے جانے والے بڑے میڈیا گروپس میں سے چند ایک نے کوبرا پوسٹ کے دعوؤں کا جواب دیا ہے۔

وہ کسی قسم کے غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خفیہ ویڈیوز کو غلط انداز میں پیش کرنے کے لیے ایڈٹ کیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر ٹائمز آف انڈیا کہنا ہے کہ 'یہ مواد میں ردوبدل اور جعل سازی کا معاملہ ہے' اور کہنا ہے کہ کوبرا پوسٹ نے جن میڈیا کے اداروں کا نام لیا ہے ان میں سے کسی نے بھی 'کسی غیرقانونی یا غیراخلاقی کام کرنے پر اتفاق نہیں کیا تھا اور نہ کسی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔'

کوبراپوسٹ کی ویڈیوز میں ٹائمز آف انڈیا کے پبلشر بینٹ کولمین کے مینجنگ ڈائریکٹر ونیت جین کو مول تول کرتے دکھایا گیا ہے۔ ونیت جین کا کہنا تھا انھیں 15 کروڑ ڈالر چاہییں لیکن وہ اس سے نصف پر رضا مند ہوجاتے ہیں۔

اس حوالے سے بھی گفتگو کی جاتی ہے کہ ادائیگی نقد رقم کی صورت میں کیسے کی جاسکتی، ممکنہ طور پر ٹیکس سے بچنے کے لیے۔

بینٹ کولمین نے اس الزامات کی تردید کی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا میں ایک مضمون بھی شائع ہوا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کوبراپوسٹ اپنے ہی جال میں پھنس گیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ بینٹ کولمین جاتے تھے کہ پشپ شرما ایک بہروپیا ہے اور وہ جان بوجھ کر اس کے ساتھ گئے تاکہ وہ 'اس فراڈیے کو پھنسا سکیں اور اس کے اصل مقصدکا کھوج لگا سکیں۔'

انڈیا ٹوڈے گروپ نے بھی کسی قسم کے غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

ان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کمپنی کے مینجرز کوئی غیراخلاقی کام نہیں کرتے، اور کوئی ایسا اشتہار جو ملک کو مذہب یا ذات پات میں تقسیم کرے قابل قبول نہیں ہے یا اس کے چینلز پر نشر نہیں کیا جائے گا۔

جبکہ نیو انڈین ایکسپریس کا کہنا ہے کہ اخبار کے لیے کوئی ادارتی معاملہ نہیں ہے کیونکہ یہ ملاقاتیں خفیہ رپورٹر اور اشتہارات سے منسلک افراد کے درمیان ہوئی ہیں اور اس میں ایک اشتہاری مہم کے امکانات پر بات چیت کی گئی تھی۔

اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کوئی ایسا اشتہار قبول نہیں کرتے جو فرقہ وارانہ انتشار پھیلائے اور ایگزیکٹیوز نے یہ واضح کردیا تھا کہ اشتہارات کو قانونی طور پر پرکھنے کی ضرورت ہوگی۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ کوبراپوسٹ کے الزامات کو صحیح انداز میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔

لیکن دوسری جانب ممکنہ طور پر یہ انڈیا میں ذرائع ابلاغ کی آزادی پر بھی شک و شبہات قائم کرنے کے امکانات ہیں خاص طور پر جب عام انتخابات میں ایک سال کا عرصہ باقی رہ گیا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی جمیوریت کا آزدی صحافت کی فہرست میں نیچے جانا ملک کے شرمندی کا باعث ہے۔

اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈیا کی رینکنگ مزید گر سکتی ہے۔

نیوز ویب سائٹ سکرول ملک کو درپیش اسی چیلنج کو ظاہر کرتی ہے کہ 'کوبراپوسٹ نے ظاہر کیا کہ انڈین میڈیا ڈوب رہا ہے۔ اب ہم اس کے لیے لڑ سکتے ہیں یا ڈوب سکتے ہیں'

No comments:

Post a Comment

Thank you for visiting

HD Photos Designed by Templateism.com Copyright © 2014

Theme images by Bim. Powered by Blogger.